Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Húd Ayah 115

11:115
واصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين ١١٥
وَٱصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ ١١٥
وَٱصۡبِرۡﲪ
فَإِنَّﲫ
ٱللَّهَﲬ
لَاﲭ
يُضِيعُﲮ
أَجۡرَﲯ
ٱلۡمُحۡسِنِينَﲰ
١١٥ﲱ
Sé paciente [ante las dificultades], porque Dios no dejará que se pierda la recompensa de los que hacen el bien.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 11:112 hasta 11:115

دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔

پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔

دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔