Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Az-Zúmar Ayah 75

39:75
وترى الملايكة حافين من حول العرش يسبحون بحمد ربهم وقضي بينهم بالحق وقيل الحمد لله رب العالمين ٧٥
وَتَرَى ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ حَآفِّينَ مِنْ حَوْلِ ٱلْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْحَقِّ وَقِيلَ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٧٥
وَتَرَىﱁ
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَﱂ
حَآفِّينَﱃ
مِنۡﱄ
حَوۡلِﱅ
ٱلۡعَرۡشِﱆ
يُسَبِّحُونَﱇ
بِحَمۡدِﱈ
رَبِّهِمۡۚﱉﱊ
وَقُضِيَﱋ
بَيۡنَهُمﱌ
بِٱلۡحَقِّۚﱍﱎ
وَقِيلَﱏ
ٱلۡحَمۡدُﱐ
لِلَّهِﱑ
رَبِّﱒ
ٱلۡعَٰلَمِينَﱓ
٧٥ﱔ
Verás a los ángeles, alrededor del Trono, glorificando las alabanzas de su Señor. [El Día del Juicio] se juzgará a la creación con total justicia, y se exclamará: “¡Alabado sea Dios, Señor del universo!”
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 39:73 hasta 39:75

جنت میں جانے والے وہ لوگ ہیں جن میں تقویٰ کی صفت پائی جائے۔ جب آدمی خدا کی بڑائی کو اس طرح پائے کہ اس کے اندر سے اپنی بڑائی کا احساس ختم ہوجائے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا سے ڈرنے لگتاہے۔ اپنے عجز اور خدا کی قدرت کا احساس اس کو اندیشہ ناک بنا دیتاہے۔ وہ خدا کے معاملہ میں حد درجہ محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتاہے کہ آخرت میں اس کا خدا اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں اسی طرح خوف کیا وہی آخرت کی بے خوف زندگی کے وارث قرار دئے جائیں گے۔

اہل جنت کے ساتھ آخرت میں وہ معاملہ کیا جائے گا جو دنیا میں شاہی مہمانوں کے ساتھ کیا جاتاہے۔ ان کو کمال اعزاز واکرام کے ساتھ ان کی قیام گاہوں کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب وہ جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو بے اختیار ان کی زبان پر حمد اور شکر کے کلمات جاری ہوجائیں گے۔ جنت میں ان کےلیے نہ صرف اعلیٰ قیام گاہیں ہوں گی بلکہ وہاں سیر اور ملاقات کےلیے آنے جانے پر کوئی روک نہ ہوگی۔ سفر اور مواصلات کی اعلیٰ ترین سہولتیں وافر مقدار میں حاصل ہوں گی۔

حمد کی مستحق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کا ظہور نہیں ہوتا۔آخرت حمد الٰہی کے کامل ظہور کا دن ہوگا۔ اس وقت تمام تر زبانیں اور سارا ماحول حمد خداوندی کے نغمہ سے معمورہوجائے گا۔ تمام جھوٹی بڑائیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہاں صرف ایک بستی ہوگی جس کا آدمی نام لے۔ وہاں صرف ایک بڑائی ہوگی جس کی بڑائی سے سرشار ہو کر وہ اس کی حمد کرے۔