Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Tá-Há Ayah 61

20:61
قال لهم موسى ويلكم لا تفتروا على الله كذبا فيسحتكم بعذاب وقد خاب من افترى ٦١
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍۢ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنِ ٱفْتَرَىٰ ٦١
قَالَﲥ
لَهُمﲦ
مُّوسَىٰﲧ
وَيۡلَكُمۡﲨ
لَاﲩ
تَفۡتَرُواْﲪ
عَلَىﲫ
ٱللَّهِﲬ
كَذِبٗاﲭ
فَيُسۡحِتَكُمﲮ
بِعَذَابٖۖﲯﲰ
وَقَدۡﲱ
خَابَﲲ
مَنِﲳ
ٱفۡتَرَىٰﲴ
٦١ﲵ
Moisés les dijo [a los hechiceros]: “¡Ay de ustedes! No inventen mentiras contra Dios1, pues los aniquilará con Su castigo: Los que inventan mentiras acerca de Dios serán los perdedores”.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 20:59 hasta 20:61

فرعون نے سارے ملک میں آدمی بھیج کر تمام ماہر جادوگروں کو بلایا۔ جب یہ لوگ میلے کے میدان میں جمع ہوئے تو مقابلہ پیش آنے سے پہلے حضرت موسیٰ نے ایک تقریر کی۔ یہ تقریر لوگوں کے لیے بالکل نئی چیز نہ تھی، بلکہ یہ ایک قسم کی یاد دہانی تھی۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ کی دعوت کے ذریعہ جادوگر اور دوسرے حضرات یقیناً اس بات سے آگاہ ہوچکے تھے کہ موسیٰ کا پیغام کیا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ موسیٰ شرک کے مقابلے میں توحید کی دعوت لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔

اس پس منظر میں حضرت موسیٰ نے اتمام حجت کے طورپر آخری نصیحت کی۔ حضرت موسیٰ نے فرعون اور جادوگروں سے کہا کہ اس معاملہ کو تم لوگ جادو کا معاملہ نہ سمجھو۔ خدا کی نشانی کو جادو کہنا اور انسانی جادو کے ذریعہ اس کو زیر کرنے کی کوشش کرنا بے حد سنگین بات ہے۔ یہ ایک واقعی حقیقت کا مقابلہ ایک سراسر بے حقیقت چیز کے ذریعہ کرنا ہے جس کا یقینی نتیجہ ہلاکت ہے۔ تم بظاہر مجھ کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہو مگر یہ خود خدا کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جو لوگ اس قسم کی سرکشی کریں وہ خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔