Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Az-Zúmar 39:45

39:45
واذا ذكر الله وحده اشمازت قلوب الذين لا يومنون بالاخرة واذا ذكر الذين من دونه اذا هم يستبشرون ٤٥
وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحْدَهُ ٱشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ٤٥
وَإِذَا
ذُكِرَ
ٱللَّهُ
وَحۡدَهُ
ٱشۡمَأَزَّتۡ
قُلُوبُ
ٱلَّذِينَ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
بِٱلۡأٓخِرَةِۖ
وَإِذَا
ذُكِرَ
ٱلَّذِينَ
مِن
دُونِهِۦٓ
إِذَا
هُمۡ
يَسۡتَبۡشِرُونَ
٤٥
Cuando se menciona a Dios como única divinidad, los corazones de los que se niegan a creer en el más allá sienten rechazo, pero cuando se mencionan a otros [ídolos] en lugar de Él, entonces se alegran.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 39:43 hasta 39:45
مشرکین کی مذمت ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ” وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں “۔

اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ” ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔

ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35] ‏ یعنی ” ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے “۔

چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔

صفحہ نمبر7836