Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma
52:40
ام تسالهم اجرا فهم من مغرم مثقلون ٤٠
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ أَجْرًۭا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍۢ مُّثْقَلُونَ ٤٠
أَمۡ
تَسۡـَٔلُهُمۡ
أَجۡرٗا
فَهُم
مِّن
مَّغۡرَمٖ
مُّثۡقَلُونَ
٤٠
¿O acaso tú [¡Oh, Mujámmad!] les pides una retribución[1] que hace que se vean abrumados por las deudas[2]? 1
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 52:40 hasta 52:43

مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔

داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔