প্রবেশ কর
প্রবেশ কর
প্রবেশ কর
ভাষা নির্বাচন কর

Tazkir ul Quran তাফসীর: Hud আয়াহ 123

১১:১২৩
ولله غيب السماوات والارض واليه يرجع الامر كله فاعبده وتوكل عليه وما ربك بغافل عما تعملون ١٢٣
وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ٱلْأَمْرُ كُلُّهُۥ فَٱعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ١٢٣
وَلِلّٰهِ
غَیْبُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَاِلَیْهِ
یُرْجَعُ
الْاَمْرُ
كُلُّهٗ
فَاعْبُدْهُ
وَتَوَكَّلْ
عَلَیْهِ ؕ
وَمَا
رَبُّكَ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟۠
আসমানসমূহ ও যমীনের অদৃশ্যের জ্ঞান কেবল আল্লাহরই রয়েছে। সকল বিষয়ই (চূড়ান্ত সিদ্ধান্তের জন্য) তাঁর কাছে ফিরে যায়, কাজেই তুমি তাঁরই ‘ইবাদাত কর, আর তাঁর উপরই নির্ভর কর, তোমরা যা কিছু করছ, সে সম্পর্কে তোমার প্রতিপালক মোটেই বে-খবর নন।
তাফসির
ধাপ বা পর্যায়সমূহ
পাঠ
প্রতিফলন
উত্তর
কিরাত
হাদিস
11:120 11:123 আয়াতের গ্রুপের জন্য একটি তাফসির পড়ছেন

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔

مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔

ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔