Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Az-Zukhruf 43:65

43:65
فاختلف الاحزاب من بينهم فويل للذين ظلموا من عذاب يوم اليم ٦٥
فَٱخْتَلَفَ ٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ ٦٥
فَٱخۡتَلَفَ
ٱلۡأَحۡزَابُ
مِنۢ
بَيۡنِهِمۡۖ
فَوَيۡلٞ
لِّلَّذِينَ
ظَلَمُواْ
مِنۡ
عَذَابِ
يَوۡمٍ
أَلِيمٍ
٦٥
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir ya kundi la aya 43:63 hadi 43:65 kwa Lugha ya Kiingereza
باب

ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔

پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے ۔

بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ” ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی “۔

صفحہ نمبر8280