Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Ash-Shuaraa 26:56

26:56
وانا لجميع حاذرون ٥٦
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـٰذِرُونَ ٥٦
وَإِنَّا
لَجَمِيعٌ
حَٰذِرُونَ
٥٦
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir ya kundi la aya 26:55 hadi 26:59 kwa Lugha ya Kiingereza
باب

محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی «حَاذِرُوْنَ» کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے «حَذِرُوْنَ» بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں۔ میں ارادہ کر چکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ «لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ» ۔

جناب باری کا ارشاد ہے کہ ” یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست و نابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند و بالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت و تاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل و نادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہو چکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا “۔

صفحہ نمبر6180