تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: يوسف آية 93

٩٣:١٢
اذهبوا بقميصي هاذا فالقوه على وجه ابي يات بصيرا واتوني باهلكم اجمعين ٩٣
ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ ٩٣
ٱذۡهَبُواْﲬ
بِقَمِيصِيﲭ
هَٰذَاﲮ
فَأَلۡقُوهُﲯ
عَلَىٰﲰ
وَجۡهِﲱ
أَبِيﲲ
يَأۡتِﲳ
بَصِيرٗاﲴ
وَأۡتُونِيﲵ
بِأَهۡلِكُمۡﲶ
أَجۡمَعِينَﲷ
٩٣ﲸ
ولما سألهم عن أبيه أخبروه بذهاب بصره من البكاء عليه، فقال لهم: عودوا إلى أبيكم ومعكم قميصي هذا فاطرحوه على وجه أبي يَعُدْ إليه بصره، ثم أحضروا إليَّ جميع أهلكم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:92إلى 12:93

آیت 92 قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یہ اس قدر معمولی بات نہیں تھی جسے اس ایک فقرے میں ختم کردیا جاتا ‘ مگر حضرت یوسف کی شخصیت کے ترفع اور اخلاق کی عظمت کی دلیل ہے کہ آپ نے اپنے ان خطا کار بھائیوں کو فوراً غیر مشروط طور پر معاف کردیا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ نبی اکرم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مخالفین جن کے جرائم کی فہرست بڑی طویل اور سنگین تھی کو معاف کرتے ہوئے حضرت یوسف کے اسی قول کا تذکرہ کیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اَنَا اَقُوْلُ کَمَا قَالَ اَخِیْ یُوْسُفُ : لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ”میں آج تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو میرے بھائی حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا : جاؤ تم پر آج کوئی گرفت نہیں ہے !“