تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: يوسف آية 88

٨٨:١٢
فلما دخلوا عليه قالوا يا ايها العزيز مسنا واهلنا الضر وجينا ببضاعة مزجاة فاوف لنا الكيل وتصدق علينا ان الله يجزي المتصدقين ٨٨
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَـٰعَةٍۢ مُّزْجَىٰةٍۢ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ ٨٨
فَلَمَّاﱗ
دَخَلُواْﱘ
عَلَيۡهِﱙ
قَالُواْﱚ
يَٰٓأَيُّهَاﱛ
ٱلۡعَزِيزُﱜ
مَسَّنَاﱝ
وَأَهۡلَنَاﱞ
ٱلضُّرُّﱟ
وَجِئۡنَاﱠ
بِبِضَٰعَةٖﱡ
مُّزۡجَىٰةٖﱢ
فَأَوۡفِﱣ
لَنَاﱤ
ٱلۡكَيۡلَﱥ
وَتَصَدَّقۡﱦ
عَلَيۡنَآۖﱧﱨ
إِنَّﱩ
ٱللَّهَﱪ
يَجۡزِيﱫ
ٱلۡمُتَصَدِّقِينَﱬ
٨٨ﱭ
فذهبوا إلى «مصر» ، فلما دخلوا على يوسف قالوا: يا أيها العزيز أصابنا وأهلنا القحط والجدب، وجئناك بثمن رديء قليل، فأعطنا به ما كنت تعطينا من قبل بالثمن الجيد، وتصدَّقْ علينا بقبض هذه الدراهم الرديئة القليلة وتسامح معنا فيها، إن الله تعالى يثيب المتفضِّلين على أهل الحاجة بأموالهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 88 فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ اگلے سال جب وہ لوگ اپنے والد کے حکم کے مطابق مصر پہنچے اور پھر حضرت یوسف کے سامنے پیش ہوئے۔قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ کئی سال سے لگاتار قحط کا سماں تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے اثرات زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہوں گے۔ بھیڑبکریاں بھی ختم ہوچکی ہوں گی۔ اب تو ان کی اون بھی نہیں ہوگی جو اناج کی قیمت کے عوض دے سکیں۔وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ اس دفعہ ہم جو چیزیں غلے کی قیمت ادا کرنے کے لیے لے کر آئے ہیں وہ بہت کم اور ناقص ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان سے غلے کی قیمت پوری نہیں ہوسکتی۔وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا اپنے انتہائی خراب حالات کی وجہ سے ہم چونکہ خیرات کے مستحق ہوچکے ہیں ‘ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ اس دفعہ کچھ غلہ آپ ہمیں خیرات میں بھی دیں۔ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ چونکہ حضرت یوسف کے لیے یہ ساری صورت حال بہت رقت انگیز تھی اس لیے آپ مزید ضبط نہیں کرسکے اور آپ نے انہیں اپنے بارے میں بتانے کا فیصلہ کرلیا۔