تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة يوسف، الآية 78

٧٨:١٢
قالوا يا ايها العزيز ان له ابا شيخا كبيرا فخذ احدنا مكانه انا نراك من المحسنين ٧٨
قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٧٨
قَالُواْﳈ
يَٰٓأَيُّهَاﳉ
ٱلۡعَزِيزُﳊ
إِنَّﳋ
لَهُۥٓﳌ
أَبٗاﳍ
شَيۡخٗاﳎ
كَبِيرٗاﳏ
فَخُذۡﳐ
أَحَدَنَاﳑ
مَكَانَهُۥٓۖﳒﳓ
إِنَّاﳔ
نَرَىٰكَﳕ
مِنَﳖ
ٱلۡمُحۡسِنِينَﳗ
٧٨ﳘ
قالوا مستعطفين ليوفوا بعهد أبيهم: يا أيها العزيز إن له والدًا كبيرًا في السن يحبه ولا يطيق بُعده، فخُذْ أحدنا بدلا من «بنيامين» ، إنا نراك من المحسنين في معاملتك لنا ولغيرنا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:78إلى 12:79

اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ یہ صورت حال ان لوگوں کے لیے بہت پریشان کن تھی۔ باپ کا اعتماد وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس دفعہ اللہ کے نام پر عہد کر کے بن یامین کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ اب خیال آتا تھا کہ اگر اسے یہاں چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو والد کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے۔ چناچہ وہ گڑ گڑانے پر آگئے اور حضرت یوسف کی منت سماجت کرنے لگے کہ آپ بہت شریف اور نیک انسان ہیں ‘ آپ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ اپنے پاس رکھ لیں مگر اس کو جانے دیں۔