تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٧٢:١٢
قالوا نفقد صواع الملك ولمن جاء به حمل بعير وانا به زعيم ٧٢
قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ ٧٢
قَالُواْ
نَفۡقِدُ
صُوَاعَ
ٱلۡمَلِكِ
وَلِمَن
جَآءَ
بِهِۦ
حِمۡلُ
بَعِيرٖ
وَأَنَا۠
بِهِۦ
زَعِيمٞ
٧٢
قال المنادي ومَن بحضرته: نفقد المكيال الذي يكيل الملك به، ومكافأة من يحضره مقدار حِمْل بعير من الطعام، وقال المنادي: وأنا بحِمْل البعير من الطعام ضامن وكفيل.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:70إلى 12:72
باب

جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ علیہ السلام کے بھائی بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھو گئی ہے؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔

صفحہ نمبر4045