تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٦٣:١٢
فلما رجعوا الى ابيهم قالوا يا ابانا منع منا الكيل فارسل معنا اخانا نكتل وانا له لحافظون ٦٣
فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ٦٣
فَلَمَّا
رَجَعُوٓاْ
إِلَىٰٓ
أَبِيهِمۡ
قَالُواْ
يَٰٓأَبَانَا
مُنِعَ
مِنَّا
ٱلۡكَيۡلُ
فَأَرۡسِلۡ
مَعَنَآ
أَخَانَا
نَكۡتَلۡ
وَإِنَّا
لَهُۥ
لَحَٰفِظُونَ
٦٣
فلما رجعوا إلى أبيهم قصُّوا عليه ما كان من إكرام العزيز لهم، وقالوا: إنه لن يعطينا مستقبَلا إلا إذا كان معنا أخونا الذي أخبرناه به، فأرسلْه معنا نحضر الطعام وافيًا، ونتعهد لك بحفظه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:63إلى 12:64
باب

بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھیجیں اگر انہیں ساتھ کر دیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بے فکر رہیے ہم اس کی نگہبانی کر لیں گے «‏نَكْتَلْ» ‏کی دوسری قرأت «‏یُکْتَلْ» بھی ہے۔ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی یوسف علیہ السلام کے ساتھ کر چکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنا دی۔ «حَافِظًا» ‏کی دوسری قرأت «حِفْظاً» بھی ہے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف علیہ السلام کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم و کرم کو نہیں روکتا۔

صفحہ نمبر4038