تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: يوسف آية 52

٥٢:١٢
ذالك ليعلم اني لم اخنه بالغيب وان الله لا يهدي كيد الخاينين ٥٢
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ ٥٢
ذَٰلِكَﳒ
لِيَعۡلَمَﳓ
أَنِّيﳔ
لَمۡﳕ
أَخُنۡهُﳖ
بِٱلۡغَيۡبِﳗ
وَأَنَّﳘ
ٱللَّهَﳙ
لَاﳚ
يَهۡدِيﳛ
كَيۡدَﳜ
ٱلۡخَآئِنِينَﳝ
٥٢ﳞ
ذلك القول الذي قلته في تنزيهه والإقرار على نفسي ليعلم زوجي أني لم أخنه بالكذب عليه، ولم تقع مني الفاحشة، وأنني راودته، واعترفت بذلك لإظهار براءتي وبراءته، وأن الله لا يوفق أهل الخيانة، ولا يرشدهم في خيانتهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 52 ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ یہ فقرہ سیاق عبارت میں کس کی زبان سے ادا ہوا ہے اس کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ اس لیے کہ اس فقرے کے موقع محل اور الفاظ میں متعدد امکانات کی گنجائش ہے۔ ان اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ یہ فقرہ عزیز کی بیوی کی زبان ہی سے ادا ہوا ہے کہ میں نے ساری بات اس لیے سچ سچ بیان کردی ہے تاکہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس سے کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی خیانت نہیں کی۔