تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: يوسف آية 49

٤٩:١٢
ثم ياتي من بعد ذالك عام فيه يغاث الناس وفيه يعصرون ٤٩
ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ ٤٩
ثُمَّﲍ
يَأۡتِيﲎ
مِنۢﲏ
بَعۡدِﲐ
ذَٰلِكَﲑ
عَامٞﲒ
فِيهِﲓ
يُغَاثُﲔ
ٱلنَّاسُﲕ
وَفِيهِﲖ
يَعۡصِرُونَﲗ
٤٩ﲘ
ثم يأتي من بعد هذه السنين المجدبة عام يغاث فيه الناس بالمطر، فيرفع الله تعالى عنهم الشدة، ويعصرون فيه الثمار من كثرة الخِصْب والنماء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:46إلى 12:49

حضرت یوسف نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں۔ ان میں لگا تار اچھی پیداوار ہوگی۔ حیوانات اور نباتات خوب بڑھیں گے۔ اس کے بعد سات سال قحط پڑے گا جس میں تم سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ بیچ ڈالنے کے لیے تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ بعد کے سات سال گویا دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو پچھلی گایوں اور ہری بالوں کا خاتمہ کردیں گی۔

اسی کے ساتھ حضرت یوسف نے اس کی تدبیر بھی بتادی۔ آپ نے کہا کہ پہلے سات سال میں جو پیداوار ہواس کو نہایت حفاظت سے رکھو اور کفایت کے ساتھ خرچ کرو۔ ضروری خوراک سے زیادہ جو غلّہ ہے اس کو بالوں کے اندر رہنے دو۔ اس طرح وہ کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے گی۔ مزید آپ نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بعد کے سات سالہ قحط کے بعد جو سال آئے گا وہ دوبارہ فراوانی کا سال ہوگا۔ اس میں خوب بارش ہوگی، کثرت سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔

اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔