تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة يوسف، الآية 34

٣٤:١٢
فاستجاب له ربه فصرف عنه كيدهن انه هو السميع العليم ٣٤
فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٣٤
فَٱسۡتَجَابَﲌ
لَهُۥﲍ
رَبُّهُۥﲎ
فَصَرَفَﲏ
عَنۡهُﲐ
كَيۡدَهُنَّۚﲑﲒ
إِنَّهُۥﲓ
هُوَﲔ
ٱلسَّمِيعُﲕ
ٱلۡعَلِيمُﲖ
٣٤ﲗ
فاستجاب الله ليوسف دعاءه فصرف عنه ما أرادت منه امرأة العزيز وصواحباتها من معصية الله. إن الله هو السميع لدعاء يوسف، ودعاء كل داع مِن خلقه، العليم بمطلبه وحاجته وما يصلحه، وبحاجة جميع خلقه وما يصلحهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:32إلى 12:34

وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ اس عورت کا دھڑلے سے خصوصی دعوت کا اہتمام کرنا اور اس میں سب کو فخر سے بتانا کہ دیکھ لو یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور پھر پوری بےحیائی سے اعلان کرنا کہ ایک دفعہ تو یہ مجھ سے بچ گیا ہے مگر کب تک ؟ آخر کار اسے میری بات ماننا ہوگی ! اس سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اس انتہائی اونچی سطح کی سوسائٹی کی مجموعی طور پر اخلاقی حالت کیا تھی !