تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: يوسف آية 18

١٨:١٢
وجاءوا على قميصه بدم كذب قال بل سولت لكم انفسكم امرا فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون ١٨
وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨
وَجَآءُوﱭ
عَلَىٰﱮ
قَمِيصِهِۦﱯ
بِدَمٖﱰ
كَذِبٖۚﱱﱲ
قَالَﱳ
بَلۡﱴ
سَوَّلَتۡﱵ
لَكُمۡﱶ
أَنفُسُكُمۡﱷ
أَمۡرٗاۖﱸﱹ
فَصَبۡرٞﱺ
جَمِيلٞۖﱻﱼ
وَٱللَّهُﱽ
ٱلۡمُسۡتَعَانُﱾ
عَلَىٰﱿ
مَاﲀ
تَصِفُونَﲁ
١٨ﲂ
وجاؤوا بقميصه ملطخًا بدم غير دم يوسف; ليشهد على صدقهم، فكان دليلا على كذبهم; لأن القميص لم يُمَزَّقْ. فقال لهم أبوهم يعقوب عليه السلام: ما الأمر كما تقولون، بل زيَّنت لكم أنفسكم الأمَّارة بالسوء أمرًا قبيحًا في يوسف، فرأيتموه حسنًا وفعلتموه، فصبري صبر جميل لا شكوى معه لأحد من الخلق، وأستعين بالله على احتمال ما تصفون من الكذب، لا على حولي وقوتي.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:15إلى 12:18

حضرت یوسف کا اصل قصہ یقینی طورپر اس سے زیادہ مفصّل ہے جتنا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے، نہ کہ واقعہ نگاری۔ اس لیے وہ صرف ان پہلوؤں کو لیتاہے جو نصیحت اور تذکیر کے لیے مفید ہوں۔ اور بقیہ تمام اجزاء کو حذف کردیتاہے تاکہ تاریخ نگار اس کو مرتب کریں۔

روایات کے مطابق حضرت یوسف تین دن تک اندھے کنوئیں میں رہے۔ انھیں تین دنوں میں غالباً خواب کے ذریعہ آپ کو آپ کا مستقبل دکھایا گیا۔ اس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کنویں سے نکلتے ہیں اور پھر عظمت وشان کے ایک اونچے مقام پر پہنچتے ہیں۔ حتی کہ آپ کے اور آپ کے بھائیوں کے درمیان حیثیت کے اعتبار سے اتنا فرق ہوجاتاہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے۔

حضرت یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ انتہائی اشتعال انگیز حرکت تھی۔ مگر ایک طرف حضرت یوسف کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اپنے معاملہ کو خداکے حوالے کردیا اور سنسان مقام پر اندھے کنویں کے اندر خاموش بیٹھے ہوئے خدا کی مدد کا انتظار کرتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے والد حضرت یعقوب نے صبر جمیل کی روش اختیار کی۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ انھوںنے اپنے بیٹوں سے کہا  اگر یوسف کو بھیڑیا کھا جاتا تو وہ اس کی قمیص کو بھی ضرور پھاڑ ڈالتا (لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ) تفسیر الطبری، جلد 13 ، صفحہ 36 ۔یعنی وہ بھیڑیا بھی کیسا شریف بھیڑیا تھا جو یوسف کو تو اٹھالے گیا اور خون آلود قمیص کو نہایت صحیح وسالم حالت میں اتار کر تمھارے حوالے کرگیا۔