تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٧٤:١٠

٧٤:١٠
ثم بعثنا من بعده رسلا الى قومهم فجاءوهم بالبينات فما كانوا ليومنوا بما كذبوا به من قبل كذالك نطبع على قلوب المعتدين ٧٤
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ ٧٤
ثُمَّ
بَعَثۡنَا
مِنۢ
بَعۡدِهِۦ
رُسُلًا
إِلَىٰ
قَوۡمِهِمۡ
فَجَآءُوهُم
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ
فَمَا
كَانُواْ
لِيُؤۡمِنُواْ
بِمَا
كَذَّبُواْ
بِهِۦ
مِن
قَبۡلُۚ
كَذَٰلِكَ
نَطۡبَعُ
عَلَىٰ
قُلُوبِ
ٱلۡمُعۡتَدِينَ
٧٤
ثم بعثنا من بعد نوح رسلا إلى أقوامهم (هودًا وصالحًا وإبراهيم ولوطًا وشعيبًا وغيرَهم) فجاء كل رسول قومه بالمعجزات الدالة على رسالته، وعلى صحة ما دعاهم إليه، فما كانوا ليصدِّقوا ويعملوا بما كذَّب به قوم نوح ومَن سبقهم من الأمم الخالية. وكما ختم الله على قلوب هؤلاء الأقوام فلم يؤمنوا، كذلك يختم على قلوب مَن شابههم ممن بعدهم من الذين تجاوزوا حدود الله، وخالفوا ما دعاهم إليه رسلهم من طاعته عقوبة لهم على معاصيهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
سلسلہ رسالت کا تذکرہ ٭٭

حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔ لیکن عموماً ان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا جیسے آیت «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ‏ میں ہے۔

پس ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اسی طرح ان جیسے تمام لوگوں کے دل مہر زدہ ہو جاتے ہیں اور عذاب دیکھ لینے سے پہلے انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا یعنی نبیوں اور ان کے تابعداروں کو بچا لینا اور مخالفین کو ہلاک کرنا۔ نوح نبی علیہ السلام کے بعد سے برابر یہی ہوتا رہا ہے۔ آدم علیہ السلام کے زمانے میں بھی انسان زمین پر آباد تھے۔ جب ان میں بت پرستی شروع ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر نوح علیہ السلام کو ان میں بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قیامت کے دن لوگ نوح علیہ السلام کے پاس سفارش کی درخواست لے کر جائیں گے تو کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ [صحیح بخاری:3340] ‏۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان دس زمانے گزرے اور وہ سب اسلام میں ہی گزرے ہیں۔ اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ‏ [17-الإسراء:17] ‏ ” نوح علیہ السلام کے بعد کے آنے والی قوموں کو ہم نے ان کی بد کرداریوں کے باعث ہلاک کر دیا “۔

مقصود یہ کہ ان باتوں کو سن کر مشرکین عرب ہوشیار ہو جائیں کیونکہ وہ سب سے افضل و اعلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔ پس جب کہ ان کے کم مرتبہ نبیوں اور رسولوں کے جھٹلانے پر ایسے دہشت افزاء عذاب سابقہ لوگوں پر نازل ہو چکے ہیں تو اس سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے پر ان سے بھی بدترین عذاب ان پر نازل ہوں گے۔

صفحہ نمبر3744