تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ١٠١:١٠

١٠١:١٠
قل انظروا ماذا في السماوات والارض وما تغني الايات والنذر عن قوم لا يومنون ١٠١
قُلِ ٱنظُرُوا۟ مَاذَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِى ٱلْـَٔايَـٰتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ ١٠١
قُلِ
ٱنظُرُواْ
مَاذَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
وَمَا
تُغۡنِي
ٱلۡأٓيَٰتُ
وَٱلنُّذُرُ
عَن
قَوۡمٖ
لَّا
يُؤۡمِنُونَ
١٠١
قل -أيها الرسول- لقومك: تفكروا واعتبروا بما في السموات والأرض من آيات الله البينات، ولكن الآيات والعبر والرسل المنذرة عباد الله عقابه، لا تنفع قومًا لا يؤمنون بشيء من ذلك؛ لإعراضهم وعنادهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:101إلى 10:103
دعوت غور و فکر ٭٭

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بے شمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کاچھوٹا ہو جانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن و زینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہو جانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی بڑی کشتیوں کا چلنا، یہ اس رب قدیر کی قدرتوں کے نشان کیا تمہاری رہبری، اس کی توحید اس کی جلالت اس کی عظمت اس کی یگانگت اس کی وحدت اس کی عبادت، اس کی اطاعت، اس کی ملکیت کی طرف نہیں کرتی؟

یقین مانو نہ اس کے سوا کوئی پروردگار، نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت ہے درحقیقت بے ایمانوں کے لیے اس سے زیادہ نشانیاں بھی بےسود ہیں۔ آسمان ان کے سر پر اور زمین ان کے قدموں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے، دلیل و سند ان کے آگے، لیکن یہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان پر کلمہ عذاب صادق آ چکا ہے۔ یہ تو عذاب کے آجانے سے پہلے مومن نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے اور انہی کٹھن دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گزر چکے ہیں۔ اچھا انہیں انتظار کرنے دے اور تو بھی انہیں اعلان کر کے منتظر رہ۔ انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دیکھ لیں گے کہ ہم اپنے رسولوں اور سچے غلاموں کو نجات دیں گے۔ یہ ہم نے خود اپنے نفس کریم پر واجب کر لیا ہے۔ جیسے آیت میں ہے کہ «كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» [6-الأنعام:35] ‏ ” تمہارے پروردگار نے اپنے نفس پر رحمت لکھ لی ہے “۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آچکی ہے ۔ [صحیح بخاری:7404] ‏

صفحہ نمبر3780