تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يس ٢١:٣٦

٢١:٣٦
اتبعوا من لا يسالكم اجرا وهم مهتدون ٢١
ٱتَّبِعُوا۟ مَن لَّا يَسْـَٔلُكُمْ أَجْرًۭا وَهُم مُّهْتَدُونَ ٢١
ٱتَّبِعُواْ
مَن
لَّا
يَسۡـَٔلُكُمۡ
أَجۡرٗا
وَهُم
مُّهۡتَدُونَ
٢١
وجاء من مكان بعيد في المدينة رجل مسرع (وذلك حين علم أن أهل القرية هَمُّوا بقتل الرسل أو تعذيبهم)، قال: يا قوم اتبعوا المرسلين إليكم من الله، اتبعوا الذين لا يطلبون منكم أموالا على إبلاغ الرسالة، وهم مهتدون فيما يدعونكم إليه من عبادة الله وحده. وفي هذا بيان فضل مَن سعى إلى الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 36:20إلى 36:21
مبلغ حق شہید کر دیا ٭٭

مروی ہے کہ اس بستی کے لوگ یہاں تک سرکش ہو گئے کہ انہیں نے پوشیدہ طور پر نبیوں کے قتل کا ارادہ کر لیا۔ ایک مسلمان شخص جو اس بستی کے آخری حصے میں رہتا تھا جس کا نام حبیب تھا اور رسے کا کام کرتا تھا، تھا بھی بیمار، جذام کی بیماری تھی، بہت سخی آدمی تھا۔ جو کماتا تھا اس کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں خیرات کر دیا کرتا تھا۔ دل کا نرم اور فطرت کا اچھا تھا۔ لوگوں سے الگ تھلگ ایک غار میں بیٹھ کر اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے جب اپنی قوم کے اس بد ارادے کو کسی طرح معلوم کیا تو اس سے صبر نہ ہو سکا دوڑتا بھاگتا آیا۔ بعض کہتے ہیں یہ بڑھئی تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ دھوبی تھے۔ حضرت عمر بن حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جوتی گانٹھنے والے تھے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔ انہوں نے آ کر اپنی قوم کو سمجھانا شروع کیا کہ تم ان رسولوں کی تابعداری کرو۔ ان کا کہا مانو۔

صفحہ نمبر7338

ان کی راہ چلو، دیکھو تو یہ اپنا کوئی فائدہ نہیں کر رہے یہ تم سے تبلیغ رسالت پر کوئی بدلہ نہیں مانگتے۔ اپنی خیر خواہی کی کوئی اجرت تم سے طلب نہیں کر رہے۔ درد دل سے تمہیں اللہ کی توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور سیدھے اور سچے راستے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ خود بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ تمہیں ضرور ان کی دعوت پر لبیک کہنا چاہیئے اور ان کی اطاعت کرنی چاہیئے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی بلکہ انہیں شہید کر دیا۔ «رضی اللہ عنہا وارضاہ» ۔

صفحہ نمبر7339