تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة طه، الآية 88

٨٨:٢٠
فاخرج لهم عجلا جسدا له خوار فقالوا هاذا الاهكم والاه موسى فنسي ٨٨
فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌۭ فَقَالُوا۟ هَـٰذَآ إِلَـٰهُكُمْ وَإِلَـٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِىَ ٨٨
فَأَخۡرَجَﱁ
لَهُمۡﱂ
عِجۡلٗاﱃ
جَسَدٗاﱄ
لَّهُۥﱅ
خُوَارٞﱆ
فَقَالُواْﱇ
هَٰذَآﱈ
إِلَٰهُكُمۡﱉ
وَإِلَٰهُﱊ
مُوسَىٰﱋ
فَنَسِيَﱌ
٨٨ﱍ
فصنع السامري لبني إسرائيل من الذهب عجلا جسدًا يخور خوار البقر، فقال المفتونون به منهم للآخرين: هذا هو إلهكم وإله موسى، نسيه وغَفَل عنه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 88 فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ”اس سلسلے میں جو مختلف روایات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مصر میں اگرچہ اسرائیلی قوم کی حیثیت غلامانہ تھی مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تعلق کی وجہ سے ان کی دیانت داری مسلمّ تھی۔ چناچہ قبطی قوم کے لوگ اپنے زیورات اور دوسری قیمتی چیزیں اکثر ان کے پاس امانت رکھوایا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ مصر سے نکلے تو قبطی قوم کے بہت سے زیورات بھی وہ اپنے ساتھ لے آئے جو ان میں سے اکثر لوگوں کے پاس بطور امانت پڑے تھے۔ البتہ اس کا ان کے ذہن پر ایک بوجھ تھا کہ یہ ہمارے لیے جائز بھی ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے سامری نے بھی انہیں قائل کرلیا کہ اس بوجھ سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان کو یہ زیورات پھینک دینے چاہئیں۔ چناچہ جب ان لوگوں نے وہ زیوارت پھینک دیے تو سامری نے انہیں پگھلا کر گائے کے بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا ‘ اور اس میں خاص مہارت سے کچھ ایسے سوراخ رکھے کہ جب ان میں سے ہوا کا گزر ہوتا تو بیل کے ڈکرانے کی سی آواز پیدا ہوتی۔ اس کی دوسری توجیہہ وہ ہے جو سامری نے خود بیان کی اور اس کا ذکر آئندہ آیات میں آئے گا۔فَقَالُوْا ہٰذَآ اِلٰہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ ”یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مغالطہ ہوا ہے جو وہ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے لیے کوہ طور پر چلے گئے ہیں ‘ حالانکہ ہمارا اور ان علیہ السلام کا رب تو یہاں موجود ہے۔