تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة طه، الآية 63

٦٣:٢٠
قالوا ان هاذان لساحران يريدان ان يخرجاكم من ارضكم بسحرهما ويذهبا بطريقتكم المثلى ٦٣
قَالُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَٰنِ لَسَـٰحِرَٰنِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ ٱلْمُثْلَىٰ ٦٣
قَالُوٓاْﲼ
إِنۡﲽ
هَٰذَٰنِﲾ
لَسَٰحِرَٰنِﲿ
يُرِيدَانِﳀ
أَنﳁ
يُخۡرِجَاكُمﳂ
مِّنۡﳃ
أَرۡضِكُمﳄ
بِسِحۡرِهِمَاﳅ
وَيَذۡهَبَاﳆ
بِطَرِيقَتِكُمُﳇ
ٱلۡمُثۡلَىٰﳈ
٦٣ﳉ
فتجاذب السحرة أمرهم بينهم وتحادثوا سرًا، قالوا: إن موسى وهارون ساحران يريدان أن يخرجاكم من بلادكم بسحرهما، ويذهبا بطريقة السحر العظيمة التي أنتم عليها، فأحكموا كيدكم، واعزموا عليه من غير اختلاف بينكم، ثم ائتوا صفًا واحدًا، وألقوا ما في أيديكم مرة واحدة؛ لتَبْهَروا الأبصار، وتغلبوا سحر موسى وأخيه، وقد ظفر بحاجته اليوم مَن علا على صاحبه، فغلبه وقهره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 63 قَالُوْٓا اِنْ ہٰذٰٹنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہِمَا وَیَذْہَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی ”مُثْلیٰ مؤنث ہے اَمْثَل کا ‘ جس کے معنی ہیں سب سے زیادہ مثالی۔ حق کے مقابلے میں باطل ذہنیت کا باہمی اتفاق ملاحظہ ہو کہ جو دلیل اس وقت فرعون اور اس کے درباریوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سوجھی تھی آج بھی شیطانی قوتیں مسلمانوں کے خلاف اسی دلیل کے تحت پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ ابلیسی سوچ کے نقیبوں نے آج بھی پوری دنیا میں شور برپا کر رکھا ہے کہ Muslim Fundamentalism ہماری مثالی تہذیب و ثقافت کے لیے خطرہ ہے۔ ہم نے بڑی محنت سے مختلف اداروں کو فروغ دیا ہے ‘ دنیا میں انسانی حقوق کا تصور متعارف کرایا ہے ‘ جان جوکھوں میں ڈال کر مرد و زن کی مساوات اور عورتوں کی آزادی کی جنگ لڑی ہے۔ مگر مسلمان بنیاد پرست ہماری تہذیب و ثقافت کی ان مثالی achievements کو ملیا میٹ کردینا چاہتے ہیں۔