تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: طه آية 62

٦٢:٢٠
فتنازعوا امرهم بينهم واسروا النجوى ٦٢
فَتَنَـٰزَعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّجْوَىٰ ٦٢
فَتَنَٰزَعُوٓاْﲶ
أَمۡرَهُمﲷ
بَيۡنَهُمۡﲸ
وَأَسَرُّواْﲹ
ٱلنَّجۡوَىٰﲺ
٦٢ﲻ
فتجاذب السحرة أمرهم بينهم وتحادثوا سرًا، قالوا: إن موسى وهارون ساحران يريدان أن يخرجاكم من بلادكم بسحرهما، ويذهبا بطريقة السحر العظيمة التي أنتم عليها، فأحكموا كيدكم، واعزموا عليه من غير اختلاف بينكم، ثم ائتوا صفًا واحدًا، وألقوا ما في أيديكم مرة واحدة; لتَبْهَروا الأبصار، وتغلبوا سحر موسى وأخيه، وقد ظفر بحاجته اليوم مَن علا على صاحبه، فغلبه وقهره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 62 فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰی ”جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے براہ راست جادوگروں سے خطاب کیا تو وہ مرعوب ہوگئے۔ نبوت کا رعب بھی تھا اور آپ علیہ السلام کی شخصیت کی خداداد وجاہت بھی ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد قبل ازیں آیت 39 میں وارد ہوچکا ہے : وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ ج کہ میں نے اپنی طرف سے تم پر اپنی خاص محبت ڈال دی تھی۔ چناچہ جادوگر یہ سب کچھ برداشت نہ کرسکے۔ آپ علیہ السلام کی تقریر سنتے ہی مقابلے کا معاملہ ان میں متنازعہ ہوگیا۔ چناچہ وہ ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے باہم سرگوشیوں میں مصروف ہوگئے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقریر سے فرعون کے درباریوں میں باہم اختلاف پیدا ہوگیا اور وہ آپس میں چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ مقابلہ نہ کرایا جائے۔ لیکن بالآخر وہ اتفاقِ رائے سے اس نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے :