تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة طه، الآية 55

٥٥:٢٠
۞ منها خلقناكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تارة اخرى ٥٥
۞ مِنْهَا خَلَقْنَـٰكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ ٥٥
۞ مِنۡهَاﱭ ﱮ
خَلَقۡنَٰكُمۡﱯ
وَفِيهَاﱰ
نُعِيدُكُمۡﱱ
وَمِنۡهَاﱲ
نُخۡرِجُكُمۡﱳ
تَارَةًﱴ
أُخۡرَىٰﱵ
٥٥ﱶ
من الأرض خَلَقْناكم - أيها الناس -، وفيها نعيدكم بعد الموت، ومنها نخرجكم أحياء مرة أخرى للحساب والجزاء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:52إلى 20:57

آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :