تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: طه آية 53

٥٣:٢٠
الذي جعل لكم الارض مهدا وسلك لكم فيها سبلا وانزل من السماء ماء فاخرجنا به ازواجا من نبات شتى ٥٣
ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ مَهْدًۭا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًۭا وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّن نَّبَاتٍۢ شَتَّىٰ ٥٣
ٱلَّذِيﱎ
جَعَلَﱏ
لَكُمُﱐ
ٱلۡأَرۡضَﱑ
مَهۡدٗاﱒ
وَسَلَكَﱓ
لَكُمۡﱔ
فِيهَاﱕ
سُبُلٗاﱖ
وَأَنزَلَﱗ
مِنَﱘ
ٱلسَّمَآءِﱙ
مَآءٗﱚ
فَأَخۡرَجۡنَاﱛ
بِهِۦٓﱜ
أَزۡوَٰجٗاﱝ
مِّنﱞ
نَّبَاتٖﱟ
شَتَّىٰﱠ
٥٣ﱡ
هو الذي جعل لكم الأرض ميسَّرة للانتفاع بها، وجعل لكم فيها طرقًا كثيرة، وأنزل من السماء مطرًا، فأخرج به أنواعًا مختلفة من النبات.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:53إلى 20:55

زمین کی پیدائش، بارش کا نظام، نباتات کا اگنا، اور دوسرے اہتمامات جس نے موجودہ دنیا کو زندہ چیزوں کے لیے قابلِ رہائش بنایا ہے، وہ حیرت ناک حد تک عظیم ہیں۔

یہ ایک ’’نشانی‘‘ ہے جو ثابت کرتی ہے، اس دنیا کا خالق ومالک ایک عظیم خدا ہے۔ موجودہ دنیا جیسی دنیا کو وجود میں لانے کے لیے اتنی بڑی قدرت درکار ہے جو نہ کسی ’’سورج‘‘ کو حاصل ہے اور نہ کسی ’’بادشاہ‘‘ کو۔ ایسی حالت میں یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس کو بنانے اور چلانے والا ایک برتر خدا ہے۔

پھر اسی سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ دنیا عبث دنیا نہیںہے۔ جو یوں ہی پیدا ہو اور یوں ہی ختم ہوجائے۔ با معنی دنیا لازمی طورپر ایک بامعنی انجام چاہتی ہے۔ اسی طرح دنیا کا مشاہدہ بیک وقت توحید کو بھی ثابت کررہا ہے اور آخرت کو بھی۔