تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: طه آية 46

٤٦:٢٠
قال لا تخافا انني معكما اسمع وارى ٤٦
قَالَ لَا تَخَافَآ ۖ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَىٰ ٤٦
قَالَﲬ
لَاﲭ
تَخَافَآۖﲮﲯ
إِنَّنِيﲰ
مَعَكُمَآﲱ
أَسۡمَعُﲲ
وَأَرَىٰﲳ
٤٦ﲴ
قال الله لموسى وهارون: لا تخافا من فرعون; فإنني معكما أسمع كلامكما وأرى أفعالكما، فاذهبا إليه وقولا له: إننا رسولان إليك من ربك أن أطلق بني إسرائيل، ولا تكلِّفهم ما لا يطيقون من الأعمال، قد أتيناك بدلالة معجزة من ربك تدل على صدقنا في دعوتنا، والسلامة من عذاب الله تعالى لمن اتبع هداه. إن ربك قد أوحى إلينا أن عذابه على مَن كذَّب وأعرض عن دعوته وشريعته.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:45إلى 20:48

فرعون نہایت متکبر تھا۔ اقتدار پاکر وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ کو اندیشہ ہواکہ جب وہ دیکھے گا کہ اس کے سوا کسی اور خدا کا پیغام اس کو سنایا جارہا ہے تو وہ غصہ میں بھڑک اٹھے گا۔ مگر خدا کا پیغمبر مکمل طورپر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یہ یقین رکھو کہ فرعون اپنی ساری طاقت اور جبروت کے باوجود تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

بنی اسرائیل قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ وہ اصلاً ایک موحد قوم تھے۔ مگر مصر کی مشرک قوم کے درمیان رہتے ہوئے وہ مشرکانہ تہذیب سے بری طرح متاثر ہوگئے تھے۔ مزید یہ کہ مشرک حکمرانوں نے بنی اسرائیل کو اس طرح محنت مزدوری میں لگا رکھا تھا کہ وہ اس قابل نہیں رہے تھے کہ وہ توحید اور آخرت کی اعلیٰ حقیقتوں کے بارے میں سوچ سکیں۔ اس لیے حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو مشرکانہ ماحول سے نکالو اور ان کو الگ خطہ زمین میںآباد کرو۔ تاکہ شرک اور جاہلیت کی فضا سے کٹ کر ان کی تربیت ممکن ہوسکے۔