تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: طه آية 38

٣٨:٢٠
اذ اوحينا الى امك ما يوحى ٣٨
إِذْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ ٣٨
إِذۡﱁ
أَوۡحَيۡنَآﱂ
إِلَىٰٓﱃ
أُمِّكَﱄ
مَاﱅ
يُوحَىٰٓﱆ
٣٨ﱇ
وذلك حين ألهمْنا أمَّك: أن ضعي ابنك موسى بعد ولادته في التابوت، ثم اطرحيه في النيل، فسوف يلقيه النيل على الساحل، فيأخذه فرعون عدوي وعدوه. وألقيت عليك محبة مني فصرت بذلك محبوبًا بين العباد، ولِتربى على عيني وفي حفظي. وفي الآية إثبات صفة العين لله - سبحانه وتعالى - كما يليق بجلاله وكماله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:37إلى 20:40

مصر کے اصل باشندے قبطی تھےجن کا سیاسی اور مذہبی نمائندہ فرعون تھا۔ وہاں کی دوسری قوم بنی اسرائیل تھی جو حضرت یوسف کے زمانے میں باہر سے آکر یہاں آباد ہوئی تھی۔ حضرت موسیٰ جس زمانہ میں بنی اسرائیل کے ایک گھر میں پیدا ہوئے۔ اس زمانہ میں فرعون نے اسرائیل کی نسل ختم کرنے کے لیے یہ حکم دے دیا تھا کہ اسرائیل کے گھروں میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیے جائیں۔ حضرت موسیٰ کی ماں نے بچہ کو قتل سے بچانے کے لیے خدائی الہام کے تحت یہ کیا کہ اس کو ٹوکری میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔

یہ ٹوکری بہتے ہوئے فرعون کے محل کے پاس پہنچی۔ وہاں فرعون اور اس کی بیوی نے اس کو دیکھا تو ان کو چھوٹے بچہ پررحم آگیا۔ انھوں نے اس کو نکال کر محل کے اندر رکھ لیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کی بہن کی نشان دہی پر آپ کی ماں آپ کو دودھ پلانے کے لیے مقرر ہوئیں۔یہ خدا کا ایک کرشمہ ہے کہ جس فرعون کو موسیٰ کا سب سے بڑا دشمن بننا تھا اسی فرعون کے ذریعہ حضرت موسیٰ کی پرورش اور تربیت کرائی گئی۔

حضرت موسیٰ بڑے ہوئے تو ایک قبطی اور ایک اسرائیلی کے جھگڑے میں انھوں نے قبطی کو تنبيہہ کی۔ غیرمتوقع طورپر وہ قبطی مر گیا۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے حکم جاری ہوا کہ موسیٰ کو گرفتار کرلیاجائے۔ مگر حضرت موسیٰ خفیہ طور پر مصر سے نکل کر مدین پہنچ گئے۔ وہاں کے صحرائی ماحول میں وہ زندگی کے مزید تجربات سے آشنا ہوئے۔ قبطی کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے غیر معمولی دعائیں کیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس حادثہ کو ان کے لیے مزید تربیت اور تعلیم کا ذریعہ بنا دیا۔