تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: طه آية 135

١٣٥:٢٠
قل كل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحاب الصراط السوي ومن اهتدى ١٣٥
قُلْ كُلٌّۭ مُّتَرَبِّصٌۭ فَتَرَبَّصُوا۟ ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَـٰبُ ٱلصِّرَٰطِ ٱلسَّوِىِّ وَمَنِ ٱهْتَدَىٰ ١٣٥
قُلۡﳓ
كُلّٞﳔ
مُّتَرَبِّصٞﳕ
فَتَرَبَّصُواْۖﳖﳗ
فَسَتَعۡلَمُونَﳘ
مَنۡﳙ
أَصۡحَٰبُﳚ
ٱلصِّرَٰطِﳛ
ٱلسَّوِيِّﳜ
وَمَنِﳝ
ٱهۡتَدَىٰﳞ
١٣٥ﳟ
قل - أيها الرسول - لهؤلاء المشركين بالله: كل منا ومنكم منتظر دوائر الزمان، ولمن يكون النصر والفلاح، فانتظروا، فستعلمون: مَن أهل الطريق المستقيم، ومَن المهتدي للحق منا ومنكم؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:134إلى 21:1

فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ”یہ وہی اصول ہے جو ہم سورة بنی اسرائیل میں بھی پڑھ آئے ہیں : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر عذاب ہلاکت اس وقت تک نہیں بھیجتے جب تک اللہ کی طرف سے کوئی رسول آکر واضح طور پر حق کا احقاق اور باطل کا ابطال نہ کردے۔ لیکن رسول کے اتمام حجت کے بعد بھی اگر قوم انکار پر اڑی رہے تو پھر اس کو عذاب استیصال کے ذریعے سے ہلاک کر کے نسیاً منسیاً کردیا جاتا ہے۔