تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة طه، الآية 130

١٣٠:٢٠
فاصبر على ما يقولون وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن اناء الليل فسبح واطراف النهار لعلك ترضى ١٣٠
فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ ١٣٠
فَٱصۡبِرۡﱶ
عَلَىٰﱷ
مَاﱸ
يَقُولُونَﱹ
وَسَبِّحۡﱺ
بِحَمۡدِﱻ
رَبِّكَﱼ
قَبۡلَﱽ
طُلُوعِﱾ
ٱلشَّمۡسِﱿ
وَقَبۡلَﲀ
غُرُوبِهَاۖﲁﲂ
وَمِنۡﲃ
ءَانَآيِٕﲄ
ٱلَّيۡلِﲅ
فَسَبِّحۡﲆ
وَأَطۡرَافَﲇ
ٱلنَّهَارِﲈ
لَعَلَّكَﲉ
تَرۡضَىٰﲊ
١٣٠ﲋ
فاصبر - أيها الرسول - على ما يقوله المكذبون بك من أوصاف وأباطيل، وسبِّح بحمد ربك في صلاة الفجر قبل طلوع الشمس، وفي صلاة العصر قبل غروبها، وفي صلاة العشاء في ساعات الليل، وسبح بحمد ربك أطراف النهار في صلاة الظهر -إذ وقتها طرف النصف الأول والنصف الثاني من النهار- وفي صلاة المغرب ; كي تثاب على هذه الأعمال بما تَرْضى به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:128إلى 20:130

کسی قوم کو زمین پرعروج حاصل ہو اور پھر وہ ہلاک یا مغلوب کر دی جائے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے بندگی کی حد سے تجاوز کیا۔ ہر تباہ شدہ قوم اپنے بعد والوں کے لیے درس عبرت ہوتی ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح کے واقعات سے درس حاصل کرتے ہوں۔

یہاں تسبیح اور نماز کی جو تلقین کی گئی ہے وہ مکی دور کے انتہائی سخت حالات میں کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ انکار اور مخالفت کے سخت ترین حالات میں نماز اور خدا کی یاد مومن کی ڈھال ہے۔ اس سے راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اور فتوحات کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس سے سب کچھ اتنی بڑی مقدار میں مل جاتا ہے کہ آدمی اس کو پاکر راضی ہوجائے۔