تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Fi Zilal al-Quran: سورة طه، الآية 118

١١٨:٢٠
ان لك الا تجوع فيها ولا تعرى ١١٨
إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ ١١٨
إِنَّﱸ
لَكَﱹ
أَلَّاﱺ
تَجُوعَﱻ
فِيهَاﱼ
وَلَاﱽ
تَعۡرَىٰﱾ
١١٨ﱿ
إن لك - يا آدم - في هذه الجنة أن تأكل فلا تجوع، وأن تَلْبَس فلا تَعْرى.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:118إلى 20:119

ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری (811) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی (02 : 811-911) ” نہ بھوکے اور نہ ننگے رہو ، نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستائے۔ “ جب تک تم جنت میں ہو گے یہ سب سہولتیں تمہیں حاصل ہوں گی۔ بھوک اور لباس کی نایابی ، پیاس اور دھوپ کے بالمقابل ہیں لفظاً اور معناً یہ وہ مجموعہ ضروریات ہے جو ہر انسان کو اس زمین پر مشقت میں ڈالتا ہے۔

لیکن آدم ، جنت میں زندگی کی ٹھوکروں سے دوچار نہ ہوئے تھے ، تجربات نہ تھے۔ انسانی کمزور ساتھ تھی ، بقائے دوام کی خواہش انسان کی بڑی کمزوری ہے۔ پھر بقائے دوام کے ساتھ اقتدار مستحکم اس کے سوا انسان کو اور کیا چاہئے۔ چناچہ شیطان اس دروازے سے اس کے اندر آتا ہے۔