تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: طه آية 109

١٠٩:٢٠
يوميذ لا تنفع الشفاعة الا من اذن له الرحمان ورضي له قولا ١٠٩
يَوْمَئِذٍۢ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَـٰعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَرَضِىَ لَهُۥ قَوْلًۭا ١٠٩
يَوۡمَئِذٖﲢ
لَّاﲣ
تَنفَعُﲤ
ٱلشَّفَٰعَةُﲥ
إِلَّاﲦ
مَنۡﲧ
أَذِنَﲨ
لَهُﲩ
ٱلرَّحۡمَٰنُﲪ
وَرَضِيَﲫ
لَهُۥﲬ
قَوۡلٗاﲭ
١٠٩ﲮ
في ذلك اليوم لا تنفع الشفاعة أحدًا من الخلق، إلا إذا أذن الرحمن للشافع، ورضي عن المشفوع له، ولا يكون ذلك إلا للمؤمن المخلص.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:109إلى 20:112

سفارش کا مستقل بالذا ت مؤثر ہونا سراسر باطل ہے۔خدا نہ تو بندوں کے احوال سے بے خبر ہے کہ کوئی اس کو کسی کے بارے میں بتائے اور نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس پر دباؤ ڈال سکے۔ البتہ بعض خاص احوال میں خود اللہ تعالیٰ ہی کی یہ منشا ہوسکتی ہے کہ وہ کسی کی زبان سے جاری ہونے والی ایک قابلِ لحاظ درخواست کو عزت قبول عطا فرمائے۔

قیامت میں اصل اہمیت اس کی ہوگی کہ کون شخص خود کیا لے کر آیا ہے۔ جس شخص نے موجودہ دنیا میں اپنی زندگی ناحق پر کھڑی کی ہوگی اس کا آخرت میں ناکام ہونا یقینی ہے۔ وہاں صرف وہی لوگ کامیاب ہوں گے جنھوں نے حالت غیب میں اپنے رب کو پہچانا اور اپنی زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھال لیا۔