تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ١٠٨:٢٠

١٠٨:٢٠
يوميذ يتبعون الداعي لا عوج له وخشعت الاصوات للرحمان فلا تسمع الا همسا ١٠٨
يَوْمَئِذٍۢ يَتَّبِعُونَ ٱلدَّاعِىَ لَا عِوَجَ لَهُۥ ۖ وَخَشَعَتِ ٱلْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًۭا ١٠٨
يَوۡمَئِذٖ
يَتَّبِعُونَ
ٱلدَّاعِيَ
لَا
عِوَجَ
لَهُۥۖ
وَخَشَعَتِ
ٱلۡأَصۡوَاتُ
لِلرَّحۡمَٰنِ
فَلَا
تَسۡمَعُ
إِلَّا
هَمۡسٗا
١٠٨
في ذلك اليوم يتبع الناس صوت الداعي إلى موقف القيامة، لا محيد عن دعوة الداعي; لأنها حق وصدق لجميع الخلق، وسكنت الأصوات خضوعًا للرحمن، فلا تسمع منها إلا صوتًا خفيًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:108إلى 20:110

یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔

یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔

اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی

وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (02 : 801) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “