تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة طه، الآية 104

١٠٤:٢٠
نحن اعلم بما يقولون اذ يقول امثلهم طريقة ان لبثتم الا يوما ١٠٤
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًۭا ١٠٤
نَّحۡنُﱳ
أَعۡلَمُﱴ
بِمَاﱵ
يَقُولُونَﱶ
إِذۡﱷ
يَقُولُﱸ
أَمۡثَلُهُمۡﱹ
طَرِيقَةًﱺ
إِنﱻ
لَّبِثۡتُمۡﱼ
إِلَّاﱽ
يَوۡمٗاﱾ
١٠٤ﱿ
نحن أعلم بما يقولون ويُسِرُّون حين يقول أعلمهم وأوفاهم عقلا ما لبثتم إلا يومًا واحدًا; لقِصَر مدة الدنيا في أنفسهم يوم القيامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 104 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا ”اَمْثَلْکے معنی مثالی کے ہیں ‘ یعنی ان میں سے بہترین طریقے والا ‘ انتہائی شائستہ ‘ مہذب cultured اور سب سے زیادہ پڑھا لکھا شخص۔ یہ گویا ان کا لال بجھکڑہو گا جو دنیا میں بزعم خود مثالی شخصیت کا مالک اور دانشور تھا۔ یہی ترکیب قبل ازیں آیت 63 میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہاں فرعون کا وہ بیان نقل ہوا تھا جس میں اس نے اپنے ملک کے آئین و تمدن کو ”طَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی“ قرار دیا تھا۔ یہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پر مشتمل پانچ رکوع اختتام پذیر ہوئے۔ اس سے آگے سورة کے اختتام تک وہی مضامین ہیں جو عام طور پر مکی سورتوں میں ملتے ہیں۔