تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: طه آية 102

١٠٢:٢٠
يوم ينفخ في الصور ونحشر المجرمين يوميذ زرقا ١٠٢
يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ وَنَحْشُرُ ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ زُرْقًۭا ١٠٢
يَوۡمَﱢ
يُنفَخُﱣ
فِيﱤ
ٱلصُّورِۚﱥﱦ
وَنَحۡشُرُﱧ
ٱلۡمُجۡرِمِينَﱨ
يَوۡمَئِذٖﱩ
زُرۡقٗاﱪ
١٠٢ﱫ
يوم يَنفُخ الملَكُ في «القرن» لصيحة البعث، ونسوق الكافرين ذلكم اليوم وهم زرق، تغيَّرت ألوانهم وعيونهم; من شدة الأحداث والأهوال.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:99إلى 20:108

قیامت میں موجودہ زمین ایک وسیع اور ہموار فرش کی مانند بنادی جائے گی۔ اس وقت یہاںنہ پہاڑوں کی بلندیاں ہوں گی اور نہ دریاؤں کی گہرائیاں۔ تمام انسان دوبارہ پیدا ہوکر اس زمین پر جمع کيے جائیں گے۔ دنیا میں خدا کی آواز خدا کے داعی کی زبان سے بلند ہوتی ہے تو لوگ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر قیامت میں جب خدا براہِ راست لوگوں کو پکارے گا تو سارے انسان کسی ادنیٰ انحراف کے بغیر اس کی آواز کی طرف چل پڑیںگے۔ لوگوں پر اس قدر ہول طاری ہوگا کہ کسی کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلے گا۔ لوگوں کے چلنے کی سرسراہٹ کے سوا کوئی اور آواز نہ ہوگی جو اس وقت لوگوں کو سنائی دے۔