تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة ص، الآية 8

٨:٣٨
اانزل عليه الذكر من بيننا بل هم في شك من ذكري بل لما يذوقوا عذاب ٨
أَءُنزِلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ مِنۢ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّۢ مِّن ذِكْرِى ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا۟ عَذَابِ ٨
أَءُنزِلَﲈ
عَلَيۡهِﲉ
ٱلذِّكۡرُﲊ
مِنۢﲋ
بَيۡنِنَاۚﲌﲍ
بَلۡﲎ
هُمۡﲏ
فِيﲐ
شَكّٖﲑ
مِّنﲒ
ذِكۡرِيۚﲓﲔ
بَلﲕ
لَّمَّاﲖ
يَذُوقُواْﲗ
عَذَابِﲘ
٨ﲙ
أخُص محمد بنزول القرآن عليه من دوننا؟ بل هم في ريب من وحيي إليك -أيها الرسول- وإرسالي لك، بل قالوا ذلك؛ لأنهم لم يذوقوا عذاب الله، فلو ذاقوا عذابه لما تجرؤوا على ما قالوا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 8 { ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْم بَیْنِنَا } ”کیا اسی پر نازل ہوا ہے یہ ذکر ہمارے درمیان ؟“ اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہے تو کیا یہ محمد ﷺ پر ہی نازل ہونا تھا ‘ کیا اس کے لیے اللہ کو ہمارے بڑے بڑے سرداروں اور سرمایہ داروں سے کوئی ”اعلیٰ شخصیت“ نظر نہیں آئی ؟ { بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ } ”بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ میرے ذکر کے معاملے میں شک میں پڑگئے ہیں۔“ { بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ } ”بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔“ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تک انہوں نے میرے کسی عذاب کی مار نہیں چکھی ‘ اس لیے انہیں میرے اس کلام کے بارے میں شک ہے۔