تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة ص، الآية 62

٦٢:٣٨
وقالوا ما لنا لا نرى رجالا كنا نعدهم من الاشرار ٦٢
وَقَالُوا۟ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًۭا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلْأَشْرَارِ ٦٢
وَقَالُواْﱁ
مَاﱂ
لَنَاﱃ
لَاﱄ
نَرَىٰﱅ
رِجَالٗاﱆ
كُنَّاﱇ
نَعُدُّهُمﱈ
مِّنَﱉ
ٱلۡأَشۡرَارِﱊ
٦٢ﱋ
وقال الطاغون: ما بالنا لا نرى معنا في النار رجالا كنا نعدهم في الدنيا من الأشرار الأشقياء؟ هل تحقيرنا لهم واستهزاؤنا بهم خطأ، أو أنهم معنا في النار، لكن لم تقع عليهم الأبصار؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 62 { وَقَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ } ”اور وہ کہیں گے : کیا بات ہے ہم یہاں ان کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم دنیا میں برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟“ دنیا میں ہمارے ساتھ کچھ گھٹیا اور کم حیثیت لوگ بھی تو تھے جو محمد ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ وہاں ہم انہیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آج وہ لوگ یہاں جہنم میں نظر نہیں آرہے ‘ معلوم نہیں کہاں چلے گئے ہیں !