تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة ص، الآية 49

٤٩:٣٨
هاذا ذكر وان للمتقين لحسن ماب ٤٩
هَـٰذَا ذِكْرٌۭ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَـَٔابٍۢ ٤٩
هَٰذَاﱼ
ذِكۡرٞۚﱽﱾ
وَإِنَّﱿ
لِلۡمُتَّقِينَﲀ
لَحُسۡنَﲁ
مَـَٔابٖﲂ
٤٩ﲃ
هذا القرآن ذِكْر وشرف لك -أيها الرسول- ولقومك. وإن لأهل تقوى الله وطاعته لَحسنَ مصير عندنا في جنات إقامة، مفتَّحة لهم أبوابها، متكئين فيها على الأرائك المزيَّنات، يطلبون ما يشتهون من أنواع الفواكه الكثيرة والشراب، من كل ما تشتهيه نفوسهم، وتلذه أعينهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 38:49إلى 38:54

جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔

قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔