تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٤٦:٣٨
انا اخلصناهم بخالصة ذكرى الدار ٤٦
إِنَّآ أَخْلَصْنَـٰهُم بِخَالِصَةٍۢ ذِكْرَى ٱلدَّارِ ٤٦
إِنَّآ
أَخۡلَصۡنَٰهُم
بِخَالِصَةٖ
ذِكۡرَى
ٱلدَّارِ
٤٦
إنا خصصناهم بخاصة عظيمة، حيث جعلنا ذكرى الدار الآخرة في قلوبهم، فعملوا لها بطاعتنا، ودعوا الناس إليها، وذكَّروهم بها. وإنهم عندنا لمن الذين اصطفيناهم لرسالتنا، واخترناهم لطاعتنا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 38:45إلى 38:48

یہاں چند پیغمبروں کا ذکر کرکے ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہاتھ والے اور آنکھ والے تھے۔ یعنی ان کو جسمانی قوت اور ذہنی بصیرت دونوں اعلیٰ درجہ میں حاصل تھی۔ ایک طرف وہ عملی صلاحیت کے مالک تھے۔ دوسری طرف انھوںنے اس معرفت کا ثبوت دیا کہ وہ چیزوں کو صحیح نظر سے دیکھنے اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا نے ان کو اپنے پیغام کی پیغام بری کےلیے چن لیا۔

خدا کا خاص کام کیا ہے جس کےلیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہيے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔