تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة ص، الآية 37

٣٧:٣٨
والشياطين كل بناء وغواص ٣٧
وَٱلشَّيَـٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍۢ وَغَوَّاصٍۢ ٣٧
وَٱلشَّيَٰطِينَﲴ
كُلَّﲵ
بَنَّآءٖﲶ
وَغَوَّاصٖﲷ
٣٧ﲸ
وسخَّرنا له الشياطين يستعملهم في أعماله: فمنهم البناؤون والغوَّاصون في البحار، وآخرون، وهم مردة الشياطين، موثوقون في الأغلال. هذا المُلْك العظيم والتسخير الخاص عطاؤنا لك يا سليمان، فأعط مَن شئت أو امنع مَن شئت، لا حساب عليك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 37 { وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآئٍ وَّغَوَّاصٍ } ”اور سرکش ِجنات ّکو بھی ہم نے مسخر کردیا تھا سب کے سب عمارتیں بنانے والوں اور غوطہ خوروں کو۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے یہ جنات بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے اور سمندر کی تہہ سے موتی اور دیگر اشیاء نکالتے تھے۔ -۔ -۔ -۔ - بَنَّـائ کے معنی معمار کے ہیں۔ حسن البناء شہید بھی اسی وجہ سے ”البناء“ کہلاتے تھے کہ ان کا تعلق ایک معمار خاندان سے تھا۔ عرب معاشرے میں کسی بھی پیشے کو حقیر یا باعث عار نہیں سمجھا جاتا۔ بقول غالب ع ”پیشے کو عیب نہیں ‘ رکھیے نہ فرہاد کو نام !“ چناچہ عربوں کے ہاں اگر کسی شخص کے آباء و اَجداد حرم میں لوگوں کو پانی پلایا کرتے تھے تو وہ آج بھی ”سقّاء“ کہلاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کا تعلق نانبائیوں کے خاندان سے ہے تو وہ ”خباز“ کہلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔