تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ص ٢١:٣٨

٢١:٣٨
۞ وهل اتاك نبا الخصم اذ تسوروا المحراب ٢١
۞ وَهَلْ أَتَىٰكَ نَبَؤُا۟ ٱلْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا۟ ٱلْمِحْرَابَ ٢١
۞ وَهَلۡ
أَتَىٰكَ
نَبَؤُاْ
ٱلۡخَصۡمِ
إِذۡ
تَسَوَّرُواْ
ٱلۡمِحۡرَابَ
٢١
وهل جاءك -أيها الرسول- خبر المتخاصِمَين اللذَين تسوَّرا على داود في مكان عبادته، فارتاع من دخولهما عليه؟ قالوا له: لا تَخَفْ، فنحن خصمان ظلم أحدنا الآخر، فاقض بيننا بالعدل، ولا تَجُرْ علينا في الحكم، وأرشِدنا إلى سواء السبيل.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 21 تا 24

اس واقعہ کی تشریح یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے وقت کا ایک حصہ امور مملکت کو دیتے تھے ، لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے۔ کچھ وقت وہ خلوت تنہائی ، عبادت اور حمد و ثنا اور حمد الہٰی کے ترانے پڑھنے کے لیے دیتے تھے۔ جب آپ محراب میں خلوت گزیں ہوتے تو کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ جب تک کہ آپ خود باہر نہ آجائیں۔

ایک دن یوں ہوا کہ دو افراد دیوار پھلانگ کر اس خلوت گاہ میں گھس آئے۔ آپ ان کے اس طرح گھس آنے سے گھبراگئے۔ کیونکہ کوئی اہل ایمان یا کوئی ذمہ دار شخص یوں ان کی خلوت گاہ میں نہ آسکتا تھا۔ چناچہ ان دو افراد نے بھی آپ کے خوف کو محسوس کیا اور جلدی سے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔