تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: سبإ آية 21

٢١:٣٤
وما كان له عليهم من سلطان الا لنعلم من يومن بالاخرة ممن هو منها في شك وربك على كل شيء حفيظ ٢١
وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَـٰنٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِٱلْـَٔاخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّۢ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ ٢١
وَمَاﲧ
كَانَﲨ
لَهُۥﲩ
عَلَيۡهِمﲪ
مِّنﲫ
سُلۡطَٰنٍﲬ
إِلَّاﲭ
لِنَعۡلَمَﲮ
مَنﲯ
يُؤۡمِنُﲰ
بِٱلۡأٓخِرَةِﲱ
مِمَّنۡﲲ
هُوَﲳ
مِنۡهَاﲴ
فِيﲵ
شَكّٖۗﲶﲷ
وَرَبُّكَﲸ
عَلَىٰﲹ
كُلِّﲺ
شَيۡءٍﲻ
حَفِيظٞﲼ
٢١ﲽ
وما كان لإبليس على هؤلاء الكفار مِن قهر على الكفر، ولكن حكمة الله اقتضت تسويله لبني آدم; ليظهر ما علمه سبحانه في الأزل؛ لنميز مَن يصدِّق بالبعث والثواب والعقاب ممن هو في شك من ذلك. وربك على كل شيء حفيظ، يحفظه ويجازي عليه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 21 { وَمَا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ } ”اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا“ ابلیس کا انسانوں پر کوئی زور نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صرف مہلت دے رکھی ہے۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ انسانوں کو حیلے بہانے سے ورغلاتا اور انہیں سبز باغ دکھاتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور اسے یہ مہلت بھی انسانوں کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ { اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ } ”مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے“ تاکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کی پہچان ہوجائے اور انہیں ہم چھانٹ کر الگ کرلیں : { مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَکٍّ وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ} ”ان لوگوں سے جو اس سے متعلق شک میں ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہرچیز پر نگران ہے۔“