تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: نوح ٢:٧١

٢:٧١
قال يا قوم اني لكم نذير مبين ٢
قَالَ يَـٰقَوْمِ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ ٢
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
إِنِّي
لَكُمۡ
نَذِيرٞ
مُّبِينٌ
٢
إنا بعثنا نوحا إلى قومه، وقلنا له: حذِّر قومك من قبل أن يأتيهم عذاب موجع. قال نوح: يا قومي إني نذير لكم بيِّن الإنذار من عذاب الله إن عصيتموه، وإني رسول الله إليكم فاعبدوه وحده، وخافوا عقابه، وأطيعوني فيما آمركم به، وأنهاكم عنه، فإن أطعتموني واستجبتم لي يصفح الله عن ذنوبكم ويغفر لكم، ويُمدد في أعماركم إلى وقت مقدر في علم الله تعالى، إن الموت إذا جاء لا يؤخر أبدًا، لو كنتم تعلمون ذلك لسارعتم إلى الإيمان والطاعة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قال یقوم .................................... تعلمون (4) (17 : 2 تا 4) ” اس نے کہا : ” اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں۔ (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔

قال یقوم ............................ مبین (17 : 2) ” اے میری قوم کے لوگو ، میں تمہارے لئے صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ آپ اپنی دعوت میں جس بات کی وضاحت کرتے ہیں وہ ڈراوا ہے۔ اور اس ڈراوے کو آپ نہایت ہی وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ مجمل بات نہیں کرتے نہ پیچیدہ کرکے اور لپیٹ کر محض اشارات وکنایات سے بات کرتے ہیں نہ آپ اپنی دعوت کے سلسلے میں شف شف کرتے ہیں۔ اور قوم نوح جس انجام سے دوچار ہونے والی تھی وہ بھی آپ نے صاف صاف بتادیا کہ اگر تم باز آجاﺅ تو دنیا کا عذاب موخر ہوسکتا ہے۔