تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١١:٧١
يرسل السماء عليكم مدرارا ١١
يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًۭا ١١
يُرۡسِلِ
ٱلسَّمَآءَ
عَلَيۡكُم
مِّدۡرَارٗا
١١
إن تتوبوا وتستغفروا يُنْزِلِ الله عليكم المطر غزيرًا متتابعًا، ويكثرْ أموالكم وأولادكم، ويجعلْ لكم حدائق تَنْعَمون بثمارها وجمالها، ويجعل لكم الأنهار التي تسقون منها زرعكم ومواشيكم. ما لكم -أيها القوم- لا تخافون عظمة الله وسلطانه، وقد خلقكم في أطوار متدرجة: نطفة ثم علقة ثم مضغة ثم عظامًا ولحمًا؟ ألم تنظروا كيف خلق الله سبع سموات متطابقة بعضها فوق بعض، وجعل القمر في هذه السموات نورًا، وجعل الشمس مصباحًا مضيئًا يستضيء به أهل الأرض؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 71:11إلى 71:12

آیت 1 1{ یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ } ”وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔“ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن کر رہو گے تو وہ تمہاری دنیوی زندگی میں بھی تمہارے لیے آسانیاں پیدا کر دے گا اور تمہارے علاقے میں خوب بارشیں برسائے گا ‘ جس سے تمہارے رزق میں اضافہ ہوگا۔ ان الفاظ سے یوں لگتا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کے بعد کسی دور میں اس قوم پر خشک سالی اور قحط کا عذاب آیا تھا۔ جیسے قوم فرعون پر قحط اور دوسرے عذاب بھیجے گئے تھے الاعراف : رکوع 16۔ یا جیسے حضور ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بہت سخت قحط پڑا تھا سورۃ الدخان : رکوع 1۔ ایسے چھوٹے چھوٹے عذاب دراصل ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم کے لوگوں پر وقتاً فوقتاً اس لیے مسلط کیے جاتے تھے تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگ جائیں اور اپنے رسول کی دعوت کو سنجیدگی سے سنیں۔