تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة مريم، الآية 34

٣٤:١٩
ذالك عيسى ابن مريم قول الحق الذي فيه يمترون ٣٤
ذَٰلِكَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ ٱلْحَقِّ ٱلَّذِى فِيهِ يَمْتَرُونَ ٣٤
ذَٰلِكَﲟ
عِيسَىﲠ
ٱبۡنُﲡ
مَرۡيَمَۖﲢﲣ
قَوۡلَﲤ
ٱلۡحَقِّﲥ
ٱلَّذِيﲦ
فِيهِﲧ
يَمۡتَرُونَﲨ
٣٤ﲩ
ذلك الذي قصصنا عليك - أيها الرسول - صفتَه وخبرَه هو عيسى ابن مريم، مِن غير شك ولا مرية، بل هو قولُ الحق الذي شك فيه اليهود والنصارى.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 19:28إلى 19:34

آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّاحضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔