تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: هود ٦٢:١١

٦٢:١١
قالوا يا صالح قد كنت فينا مرجوا قبل هاذا اتنهانا ان نعبد ما يعبد اباونا واننا لفي شك مما تدعونا اليه مريب ٦٢
قَالُوا۟ يَـٰصَـٰلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّۭا قَبْلَ هَـٰذَآ ۖ أَتَنْهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ ٦٢
قَالُواْ
يَٰصَٰلِحُ
قَدۡ
كُنتَ
فِينَا
مَرۡجُوّٗا
قَبۡلَ
هَٰذَآۖ
أَتَنۡهَىٰنَآ
أَن
نَّعۡبُدَ
مَا
يَعۡبُدُ
ءَابَآؤُنَا
وَإِنَّنَا
لَفِي
شَكّٖ
مِّمَّا
تَدۡعُونَآ
إِلَيۡهِ
مُرِيبٖ
٦٢
قالت ثمود لنبيِّهم صالح: لقد كنا نرجو أن تكون فينا سيدًا مطاعًا قبل هذا القول الذي قلته لنا، أتنهانا أن نعبد الآلهة التي كان يعبدها آباؤنا؟ وإننا لفي شكٍّ مريب مِن دعوتك لنا إلى عبادة الله وحده.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:62إلى 11:63
باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں ٭٭

صالح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھیر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کروں اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کر سکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آ سکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو۔‏“

صفحہ نمبر3872