تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: هود ٣٣:١١

٣٣:١١
قال انما ياتيكم به الله ان شاء وما انتم بمعجزين ٣٣
قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ٣٣
قَالَ
إِنَّمَا
يَأۡتِيكُم
بِهِ
ٱللَّهُ
إِن
شَآءَ
وَمَآ
أَنتُم
بِمُعۡجِزِينَ
٣٣
قال نوح لقومه: إن الله وحده هو الذي يأتيكم بالعذاب إذا شاء، ولستم بفائتيه إذا أراد أن يعذبكم; لأنه سبحانه لا يعجزه شيء في الأرض ولا في السماء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:32إلى 11:34
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭

قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ” عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ “۔

آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏“

صفحہ نمبر3834