تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة هود، الآية 114

١١٤:١١
واقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذالك ذكرى للذاكرين ١١٤
وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَىِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ ۚ إِنَّ ٱلْحَسَنَـٰتِ يُذْهِبْنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ ١١٤
وَأَقِمِﲙ
ٱلصَّلَوٰةَﲚ
طَرَفَيِﲛ
ٱلنَّهَارِﲜ
وَزُلَفٗاﲝ
مِّنَﲞ
ٱلَّيۡلِۚﲟﲠ
إِنَّﲡ
ٱلۡحَسَنَٰتِﲢ
يُذۡهِبۡنَﲣ
ٱلسَّيِّـَٔاتِۚﲤﲥ
ذَٰلِكَﲦ
ذِكۡرَىٰﲧ
لِلذَّٰكِرِينَﲨ
١١٤ﲩ
وأدِّ الصلاة -أيها النبي- على أتمِّ وجه طَرَفَي النهار في الصباح والمساء، وفي ساعات من الليل. إنَّ فِعْلَ الخيرات يكفِّر الذنوب السالفة ويمحو آثارها، والأمر بإقامة الصلاة وبيان أن الحسنات يذهبن السيئات، موعظة لمن اتعظ بها وتذكر.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:112إلى 11:115

دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔

پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔

دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔