تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة هود، الآية 107

١٠٧:١١
خالدين فيها ما دامت السماوات والارض الا ما شاء ربك ان ربك فعال لما يريد ١٠٧
خَـٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ ١٠٧
خَٰلِدِينَﲹ
فِيهَاﲺ
مَاﲻ
دَامَتِﲼ
ٱلسَّمَٰوَٰتُﲽ
وَٱلۡأَرۡضُﲾ
إِلَّاﲿ
مَاﳀ
شَآءَﳁ
رَبُّكَۚﳂﳃ
إِنَّﳄ
رَبَّكَﳅ
فَعَّالٞﳆ
لِّمَاﳇ
يُرِيدُﳈ
١٠٧ﳉ
فأما الذين شَقُوا في الدنيا لفساد عقيدتهم وسوء أعمالهم، فالنار مستقرهم، لهم فيها من شدة ما هم فيه من العذاب زفير وشهيق، وهما أشنع الأصوات وأقبحها، ماكثين في النار أبدًا ما دامت السموات والأرض، فلا ينقطع عذابهم ولا ينتهي، بل هو دائم مؤكَّد، إلا ما شاء ربك من إخراج عصاة الموحدين بعد مدَّة من مكثهم في النار. إن ربك -أيها الرسول- فعَّال لما يريد.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 107 خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے۔ یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں خٰلِدِیْنَ فِیْہَا کے ساتھ کچھ استثنات بھی آئے ہیں۔ جہنم اور جنت کب تک رہیں گی یا جہنمی اور جنتی لوگ ان میں کب تک رہیں گے ؟ اس کے بارے میں فرمایا : مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے۔ اس سے مراد ابدیت بھی ہوسکتی ہے اور اس طرح کا کوئی اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید کبھی کوئی ایسا وقت آئے جب زمین و آسمان کا وہ نظام بدل بھی جائے اور کوئی دوسرا نظام اس کی جگہ لے لے۔ واضح رہے کہ اس ”زمین و آسمان“ سے مراد بھی موجودہ زمین و آسمان نہیں ہوسکتے ‘ اس لیے کہ ازروئے الفاظ قرآنی یہ تو قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں گے اور یہاں قیامت کے بعد پیش آنے والے حالات و واقعات کا ذکر ہو رہا ہے۔ پھر اس میں بھی ایک استثناء بیان کیا گیا ہے : اِلاَّ مَا شَآءَ رَبُّکَ ”سوائے اس کے جو تیرا رب چاہے“۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کے عذاب میں تخفیف کرنا چاہے یا کسی کو ایک مدت تک عذاب دے کر جہنم سے نکالنے کا فیصلہ فرمائے تو اسے اس کا پورا اختیار ہے۔ جزا و سزا کے بارے میں بھی اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار مطلق ہے ‘ لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا طے شدہ فیصلہ ہے کہ کفار کے لیے جہنم ابدی ٹھکانہ ہے۔ واللہ اعلم !