تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة غافر، الآية 3

٣:٤٠
غافر الذنب وقابل التوب شديد العقاب ذي الطول لا الاه الا هو اليه المصير ٣
غَافِرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوْبِ شَدِيدِ ٱلْعِقَابِ ذِى ٱلطَّوْلِ ۖ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ إِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ ٣
غَافِرِﱞ
ٱلذَّنۢبِﱟ
وَقَابِلِﱠ
ٱلتَّوۡبِﱡ
شَدِيدِﱢ
ٱلۡعِقَابِﱣ
ذِيﱤ
ٱلطَّوۡلِۖﱥﱦ
لَآﱧ
إِلَٰهَﱨ
إِلَّاﱩ
هُوَۖﱪﱫ
إِلَيۡهِﱬ
ٱلۡمَصِيرُﱭ
٣ﱮ
غافر الذنب للمذنبين، وقابل التوب من التائبين، شديد العقاب على مَن تجرَّأَ على الذنوب، ولم يتب منها، وهو سبحانه وتعالى صاحب الإنعام والتفضُّل على عباده الطائعين، لا معبود تصلح العبادة له سواه، إليه مصير جميع الخلائق يوم الحساب، فيجازي كلا بما يستحق.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 40:1إلى 40:3

’’عزیز وعلیم‘‘ کے الفاظ یہاں قرآن کے حق میں بطور دلیل استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن کے اترنے کے وقت ایک پیشین گوئی تھی، آج یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔

قرآن دور سائنس سے پہلے انتہائی ناموافق حالات میں اترا۔ مگر عین اپنے دعوے کے مطابق اس نے اپنے مخالفوں کے اوپر غلبہ حاصل کیا۔ عرب کے مشرکین او ر یہود اور عظیم رومی اور ایرانی سلطنتیں سب کی سب اس کی دشمن تھیں مگر اس نے بہت تھوڑے عرصہ میں سب کو مغلوب کرلیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدائے عزیز وغالب کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔

قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کامل طور پر ایک صحیح کتاب ہے۔ ڈیڑھ ہزار برس بعد بھی قرآن کی کوئی بات حقیقتِ واقعہ کے خلاف نہیں نکلی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا نازل کرنے والا علیم وخبیر ہے اس سے زمین وآسمان کی کوئی بات مخفی نہیں۔ وہ ماضی، حال اورمستقبل سے یکساں طورپر باخبر ہے۔

یہی خدا انسان کا حقیقی معبود ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان کا حساب لے۔ پھر پورے عدل کے ساتھ ہر ایک کا فیصلہ کرے۔ جو لوگ خدا کی طرف رجوع ہوئے ان کو معاف کردے اور جنھوں نے سرکشی کی انھیں ان کے برے اعمال کی سزا دے۔