تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: غافر آية 28

٢٨:٤٠
وقال رجل مومن من ال فرعون يكتم ايمانه اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم وان يك كاذبا فعليه كذبه وان يك صادقا يصبكم بعض الذي يعدكم ان الله لا يهدي من هو مسرف كذاب ٢٨
وَقَالَ رَجُلٌۭ مُّؤْمِنٌۭ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَـٰنَهُۥٓ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّىَ ٱللَّهُ وَقَدْ جَآءَكُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ مِن رَّبِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَـٰذِبًۭا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُۥ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًۭا يُصِبْكُم بَعْضُ ٱلَّذِى يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌۭ كَذَّابٌۭ ٢٨
وَقَالَﱣ
رَجُلٞﱤ
مُّؤۡمِنٞﱥ
مِّنۡﱦ
ءَالِﱧ
فِرۡعَوۡنَﱨ
يَكۡتُمُﱩ
إِيمَٰنَهُۥٓﱪ
أَتَقۡتُلُونَﱫ
رَجُلًاﱬ
أَنﱭ
يَقُولَﱮ
رَبِّيَﱯ
ٱللَّهُﱰ
وَقَدۡﱱ
جَآءَكُمﱲ
بِٱلۡبَيِّنَٰتِﱳ
مِنﱴ
رَّبِّكُمۡۖﱵﱶ
وَإِنﱷ
يَكُﱸ
كَٰذِبٗاﱹ
فَعَلَيۡهِﱺ
كَذِبُهُۥۖﱻﱼ
وَإِنﱽ
يَكُﱾ
صَادِقٗاﱿ
يُصِبۡكُمﲀ
بَعۡضُﲁ
ٱلَّذِيﲂ
يَعِدُكُمۡۖﲃﲄ
إِنَّﲅ
ٱللَّهَﲆ
لَاﲇ
يَهۡدِيﲈ
مَنۡﲉ
هُوَﲊ
مُسۡرِفٞﲋ
كَذَّابٞﲌ
٢٨ﲍ
وقال رجل مؤمن بالله من آل فرعون، يكتم إيمانه منكرًا على قومه: كيف تستحلون قَتْلَ رجل لا جرم له عندكم إلا أن يقول ربي الله، وقد جاءكم بالبراهين القاطعة مِن ربكم على صِدْق ما يقول؟ وإن يك موسى كاذبًا فإنَّ وبالَ كذبه عائد عليه وحده، وإن يك صادقًا لحقكم بعض الذي يتوعَّدكم به، إن الله لا يوفق للحق مَن هو متجاوز للحد، بترك الحق والإقبال على الباطل، كذَّاب بنسبته ما أسرف فيه إلى الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 40:28إلى 40:29

یہاں جس رجل مومن کا ذکر ہے وہ فرعون کے شاہی خاندان کا ایک فرد تھا اورغالباً وہ دربار کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے تھا۔ یہ بزرگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئے۔ تاہم وہ ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ مگر جب انھوںنے دیکھا کہ فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کررہا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ کی حمایت پر آگئے۔ انھوںنے نہایت مؤثر اور نہایت حکیمانہ انداز میں حضرت موسیٰ کی مدافعت فرمائی۔

اس واقعہ میں ایک نصیحت یہ ہے کہ تبلیغ ایک ایسی طاقت ہے کہ خود دشمن کی صفوں میں اپنے ہمدرد اور ساتھی پیدا کرلیتی ہے، خواہ وہ دشمن خاندان فرعون جیسا ظالم اور متکبر کیوں نہ ہو۔